رمضان کے احکامات

نیت

۱۵۵۹۔ انسان کے لئے روزے کی نیت دل سے گزارنا یا مثلاً یہ کہنا کہ "میں کل روزہ رکھوں گا" ضروری نہیں بلکہ اس کا ارادہ کرنا کافی ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رضا کے لئے اذان صبح سے مغرب تک کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے روزہ باطل ہوتا ہو اور یقین حاصل کرنے کے لئے اس تمام وقت میں وہ روزے سے رہا ہے ضروری ہے کہ کچھ دیر اذان صبح سے پہلے اور کچھ دیر مغرب کے بعد بھی ایسے کام کرنے سے پرہیز کرے جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔

۱۵۶۰۔ انسان ماہ رمضان المبارک کی ہر رات کو اس سے اگلے دن کے روزے کی نیت کر سکتا ہے۔اور بہتر یہ ہے کہ اس مہینے کی پہلی رات کو ہی سارے مہینے کے روزوں کی نیت کرے۔

۱۵۶۱۔ وہ شخص جس کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہو اس کے لئے ماہ رمضان میں روزے کی نیت کا آخری وقت اذان صبح سے پہلے ہے۔ یعنی اذان صبح سے پہلے روزے کی نیت ضروری ہے اگرچہ نیند یا ایسی ہی کسی وجہ سے اپنے ارادے کی طرف متوجہ نہ ہو۔

۱۵۶۲۔ جس شخص نے ایسا کوئی کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرے تو وہ جس وقت بھی دن میں مستحب روزے کی نیت کرلے اگرچہ مغرب ہونے میں کم وقت ہی رہ گیا ہو، اس کا روزہ صحیح ہے۔

۱۵۶۳۔ جو شخص ماہ رمضان المبارک کے روزوں اور اسی طرح واجب روزوں میں جن کے دن معین ہیں روزے کی نیت کئے بغیر اذان صبح سے پہلے سوجائے اگر وہ ظہر سے پہلے بیدار ہو جائے اور روزے کی نیت کرے تو اس کا روزہ صحیح ہے اور اگر وہ ظہر کے بعد بیدار ہو تو احتیاط کی بناپر ضروری ہے کہ قربت مطلقہ کی نیت نہ کرے اور اس دن کے روزے کی قضا بھی بجالائے۔

۱۵۶۴۔اگر کوئی شخص ماہ رمضان المبارک کے روزے کے علاوہ کوئی دوسرا روزہ رکھنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس روزے کو معین کرے مثلاً نیت کرے کہ میں قضاکا یا کفار کا روزہ رکھ رہا ہوں لیکن ماہ رمضان المبارک میں یہ نیت کرنا ضروری نہیں کہ میں ماہ رمضان کا روزہ کھ رہا ہوں بلکہ اگر کسی کو علم نہ ہو یا بھول جائے کہ ماہ رمضان ہے اور کسی دوسرے روزے کی نیت کرے تب بھی وہ روزہ ماہ رمضان کا روزہ شمار ہوگا۔

۱۵۶۵۔ اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ رمضان کا مہینہ ہے اور جان بوجھ کر ماہ رمضان کے روزے کے علاوہ کسی دوسرے روزے کی نیت کرے تو وہ روزہ جس کی اس نے نیت کی ہے وہ روزہ شمار نہیں ہوگا اور اسی طرح ماہ رمضان کا روزہ بھی شمار نہیں ہوگا اگر وہ نیت قصد قربت کے منافی ہو بلکہ اگر منافی نہ ہو تب بھی احتیاط کی بنا پر وہ روزہ ماہ رمضان کا روزہ شمار نہیں ہوگا۔

۱۵۶۶۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ماہ رمضان المبارک کے پہلے روزے کی نیت کرے لیکن بعد میں معلوم ہوکہ یہ دوسرا یا تیسرا روزہ تھا تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

۱۵۶۷۔ اگر کوئی شخص اذان صبح سے پہلے روزے کی نیت کرنے کے بعد بے ہوش ہوجائے اور پھر اسے دن میں کسی وقت ہوش آجائے تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ تمام کرے اور اگر تمام نہ کرسکے تو اس کی قضا بجالائے۔

۱۵۶۸۔ اگر کوئی شخص اذان صبح سے پہلے روزے کی نیت کرے اور پھر بے حواس ہو جائے اور پھر اسے دن میں کسی وقت ہوش آجائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس دن کا روزہ تمام کرے اور اس کی قضا بھی بجالائے۔

۱۵۶۹۔ اگر کوئی شخص اذان صبح سے پہلے روزے کی نیت کرے اور سوجائے اور مغرب کے بعد بیدار ہو تو اس کا روزہ صبح ہے۔

۱۵۷۰۔ اگر کسی شخص کو علم نہ ہو یا بھول جائے کہ ماہ رمضان ہے اور ظہر سے پہلے اس امر کی جانب متوجہ ہو اور اس دوران کوئی ایسا کام کر چکا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہے تو اس کا روزہ باطل ہوگا لیکن ضروری ہے کہ مغرب تک کوئی ایسا کام نہ کرے جو روزے کو باطل کرتا ہو اور ماہ رمضان کے بعد روزے کی قضا بھی کرے۔ اور اگر ظہر کے بعد متوجہ ہو کہ رمضان کا مہینہ ہے تو احتیاط کی بنا پر یہی حکم ہے اور اگر ظہر سے پہلے متوجہ ہو اور کوئی ایسا کام بھی نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

۱۵۷۱۔اگر ماہ رمضان میں بچہ اذان صبح سے پہلے بالغ ہو جائے تو ضروری ہے کہ روزہ رکھے اور اگر اذان صبح کے بعد بالغ ہو تو اس کا روزہ اس پر واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر مستحب روزہ رکھنے کا ارادہ کر لیا ہو تو اس صورت میں احتیاط کی بنا پر اس دن کے روزے کو پورا کرنا ضروری ہے۔

۱۵۷۲۔ جو شخص میت کے روزے رکھنے کے لئے اجیر بنا ہو یا اس کے ذمے کفارے کا روزے ہوں اگر وہ مستحب روزے رکھے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر قضا روزے کسی کے ذمے ہوں تو وہ مستحب روزہ نہیں رکھ سکتا اور اگر بھول کر مستحب روزہ رکھ لے تو اس صورت میں اگر اسے ظہر سے پہلے یاد آ جائے تو اس کا مستحب روزہ کالعدم ہو جاتا ہے اور وہ اپنی نیت واجب روزے کی جانب موڑ سکتا ہے۔ اور اگر وہ ظہر کے بعد متوجہ ہو تو احتیاط کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور اگر اسے مغرب کے بعد یاد آئے تو اس کے روزے کا صحیح ہونا اشکال سے خالی نہیں۔

۱۵۷۳۔اگر ماہ رمضان کے روزے کے علاوہ کوئی دوسرا مخصوص روزہ انسان پر واجب ہو مثلاً اس نے منت مانی ہو کہ ایک مقررہ دن کو روزہ رکھے گا اور جان بوجھ کر اذان صبح تک نیت نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اگر اسے معلوم نہ ہو کہ اس دن کا روزہ اس پر واجب ہے یا بھول جائے اور ظہر سے پہلے اسے یاد آئے تو اگر اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو اور روزے کی نیت کرلے تو اس کا روزہ صحیح ہے اور اگر ظہر کے بعد اسے یاد آئے تو ماہ رمضان کے روزے میں جس احیتاط کا ذکر کیا گیا ہے اس کا خیال رکھے۔

۱۵۷۴۔ اگر کوئی شخص کسی غیر مُعَیَّن واجب روزے کے لئے مثلاً روزہ کفارہ کے لئے طہر کے نزدیک تک عمداً نیت نہ کرے تو کوئی حرج نہیں بلکہ اگر نیت سے پہلے مصمم ارادہ رکھتا ہو کہ روزہ نہیں رکھے گا یا مذبذب ہو کہ روزہ رکھے یا نہ رکھے تو اگر اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو اور ظہر سے پہلے روزے کی نیت کرلے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

۱۵۷۵۔اگر کوئی کافر ماہ رمضان میں ظہر سے پہلے مسلمان ہو جائے اور اذان صبح سے اس وقت تک کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ روزے کی نیت کرے اور روزے کو تمام کرے اور اگر اس دن کا روزہ نہ رکھے تو اس کی قضا بجالائے۔

۱۵۷۶۔ اگر کوئی بیمار شخص ماہ رمضان کے کسی دن میں ظہر سے پہلے تندرست ہو جائے اور اس نے اس وقت تک کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو نیت کرکے اس دن کا روزہ رکھنا ضروری ہے اور اگر ظہر کے بعد تندرست ہو تو اس دن کا روزہ اس پر واجب نہیں ہے۔

۱۵۷۷۔ جس دن کے بارے میں انسان کو شک ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تاریخ، اس دن کا روزہ رکھنا اس پر واجب نہیں ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو رمضان المبارک کے روزے کی نیت نہیں کر سکتا لیکن نیت کرے کہ اگر رمضان ہے تو رمضان کا روزہ ہے اور اگر رمضان نہیں ہے تو قضا روزہ یا اسی جیسا کوئی اور روزہ ہے تو بعید نہیں کہ اس کا روزہ صحیح ہو لیکن بہتر یہ ہے کہ قضا روزے وغیرہ کی نیت کرے اور اگر بعد میں پتہ چلے کہ ماہ رمضان تھا تو رمضان کا روزہ شمار ہوگا لیکن اگر نیت صرف روزے کی کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ رمضان تھا تب بھی کافی ہے۔

۱۵۷۸۔ اگر کسی دن کے بارے میں انسان کو شک ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان المبارک کی پہلی تاریخ تو وہ قضا یا مستحب یا ایسے ہی کسی اور روزہ کی نیت کرکے روزے رکھ لے اور دن میں کسی وقت اسے پتہ چلے کہ ماہ رمضان ہے تو ضروری ہے کہ ماہ رمضان کے روزے کی نیت کرلے۔

۱۵۷۹۔ اگر کسی مُعَیَّن واجب روزے کے بارے میں مثلاً رمضان المبارک کے روزے کے بارے میں انسان مُذبذِب ہو کہ اپنے روزے کو باطل کرے یا نہ کرے یا روزے کو باطل کرنے کا قصد کرے تو خواہ اس نے جو قصد کیا ہو اسے ترک کردے اور کوئی ایسا کام بھی نہ کرے جس سے روزہ باطل ہوتا ہو اس کا روزہ احتیاط کی بنا پر باطل ہوجاتا ہے۔

۱۵۸۰۔اگر کوئی شخص جو مستحب روزہ یا ایسا واجب روزہ مثلاً کفارے کا روزہ رکھے ہوئے ہو جس کا وقت مُعَیَّن نہ ہو کسی ایسے کام کا قصد کرے جو روزے کو باطل کرتا ہو مُذَبذِب ہو کہ کوئی ایسا کام کرے یا نہ کرے تو اگر وہ کوئی ایسا کام نہ کرے اور واجب روزے میں ظہر سے پہلے اور مستحب روزے میں غروب سے پہلے دوبارہ روزے کی نیت کرلے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

۱۵۸۱۔چند چیزیں روزے کو باطل کر دیتی ہیں:

۱۔ کھانا اور پینا۔

۲۔ جماع کرنا۔

۳۔ اِستِمَنَاء۔ یعنی انسان اپنے ساتھ یا کسی دوسرے کے ساتھ جماع کے علاوہ کوئی ایسا فعل کرے جس کے نتیجے میں منی خارج ہو۔

۴۔ خدا تعالی پیغمبر اکرام ﷺ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا۔

۵۔ غبار حلق تک پہنچانا۔

۶۔ مشہور قول کی بنا پر پورا سر پانی میں ڈبونا۔

۷۔ اذان صبح تک جنابت، حیض اور نفاس کی حالت میں رہنا۔

۸۔ کسی سَیَّال چیز سے حُقنہ (انیما) کرنا ۔

۹۔ قے کرنا۔

ان مبطلات کے تفصیلی احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔

کھانا اور پینا

۱۵۸۲۔ اگر روزہ دار اس امر کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہ روزے سے ہے کوئی چیز جان بوجھ کر کھائے یا پئے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ چیز ایسی ہو جسے عموماً کھایا یا پیا جاتا ہو مثلاً روٹی اور پانی یا ایسی ہو جسے عموماً کھایا یا پیانہ جاتا ہو مثلاً مٹی اور درخت کا شیرہ، اور خواہ کم یا زیادہ حتی کہ اگر روزہ دار مسواک منہ سے نکالے اور دوبارہ منہ میں لے جائے اور اس کی تری نگل لے تب بھی روزہ باطل ہوجاتا ہے سوائے اس صورت کے کہ مسواک کی تری لعاب دہن میں گھل مل کر اس طرح ختم ہو جائے کہ اسے بیرونی تری نہ کہا جاسکے۔

۱۵۸۳۔ جب روزہ دار رکھانا کھا رہا ہو اگر اسے معلوم ہوجائے کہ صبح ہوگئی ہے تو ضروری ہے کہ جو لقمہ منہ میں ہو اسے اگل دے اور اگر جان بوجھ کر وہ لقمہ نگل لے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اس حکم کے مطابق جس کا ذکر بعد میں ہوگا اس پر کفارہ بھی واجب ہے۔

۱۵۸۴۔ اگر روزہ دار غلطی سے کوئی چیز کھالے یا پی لے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا۔

۱۵۸۵۔ جو انجکشن عضو کو بے حس کر دیتے ہیں یا کسی اور مقصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں اگر روزے دار انہیں استعمال کرے تو کوئی حرج نہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ ان انجکشنوں سے پرہیز کیا جائے جو دوا اور غذا کی بجائے استعمال ہوتے ہیں۔

۱۵۸۶۔ اگر روزہ دار دانتوں کی ریخوں میں پھنسی ہوئی کوئی چیز عمداً نگل لے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔

۱۵۸۷۔ جو شخص روزہ رکھنا چاہتا ہو اس کے لئے اذان صبح سے پہلے دانتوں میں خلال کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر اسے علم ہو کہ جو غذا دانتوں کے ریخوں میں رہ گئی ہے وہ دن کے وقت پیٹ میں چلی جائے گی تو خلال کرنا ضروری ہے۔

۱۵۸۸۔ منہ کا پانی نگلنے سے روزہ باطل نہیں ہوتا خواہ ترشی وغیرہ کے تصور سے ہی منہ میں پانی بھر آیا ہو۔

۱۵۸۹۔ سر اور سینے کا بلغم جب تک منہ کے اندر والے حصے تک نہ پہنچے اسے نگلنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ منہ میں آجائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اسے تھوک دے۔

۱۵۹۰۔ اگر روزہ دار کو اتنی پیاس لگے کہ اسے پیاس سے مرجانے کا خوف ہو جائے یا اسے نقصان کا اندیشہ ہو یا اتنی سختی اٹھانا پڑے جو اس کے لئے ناقابل برداشت ہو تو اتنا پانی پی سکتا ہے کہ ان امور کا خوف ختم ہو جائے لیکن اس کا روزہ باطل ہو جائے گا اور اگر ماہ رمضان ہو تو اختیار لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ اس سے زیادہ پانی نہ پیئے اور دن کے حصے میں وہ کام کرنے سے پرہیز کرے جس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے۔

۱۵۹۱۔ بچے یا پرندے کو کھلانے کے لئے غذا کا چبانا یا غذا کا چکھنا اور اسی طرح کے کام کرنا جس میں غذاً عموماً حلق تک نہیں پہنچتی خواہ وہ اتفاقاً حلق تک پہنچ جائے تو روزے کو باطل نہیں کرتی۔ لیکن اگر انسان شروع سے جانتا ہو کہ یہ غذا حلق تک پہنچ جائے گی تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے اور ضروری ہے کہ اس کی قضا بجالائے اور کفارہ بھی اس پر واجب ہے۔


۱۵۹۲۔ انسان معمولی نقاہت کی وجہ سے روزہ نہیں چھوڑا سکتا لیکن اگر نقاہت اس حد تک ہو کہ عموماً برداشت نہ ہوسکے تو پھر روزہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں۔

جماع

۱۵۹۳۔ جماع روزے کو باطل کر دیتا ہے خواہ عضو تناسل سپاری تک ہی داخل ہو اور منی بھی خارج نہ ہوئی ہو۔

۱۵۹۴۔ اگر آلہ تناسل سپاری سے کم داخل ہو اور منی بھی خارج نہ ہو تو روزہ باطل نہیں ہوتا لیکن جس شخص کی سپاری کٹی ہوئی ہو اگر وہ سپاری کی مقدار سے کم تر مقدار داخل کرے تو اگر یہ کہا جائے کہ اس نے ہم بستری کی ہے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

۱۵۹۵۔ اگر کوئی شخص عمداً جماع کا ارادہ کرے اور پھر شک کرے کہ سپاری کے برابر دخول ہوا تھا یا نہیں تو احیتاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور ضروری ہے کہ اس روزے کی قضا بجالائے لیکن کفارہ واجب نہیں ہے۔

۱۵۹۶۔ اگر کوئی شخص بھول جائے کہ روزے سے ہے اور جماع کرے یا اسے جماع پر اس طرح مجبور کیا جائے کہ اس کا اختیار باقی نہ رہے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا البتہ اگر جماع کی حالت میں اسے یاد آجائے کہ روزے سے ہے یا مجبوری ختم ہوجائے تو ضروری ہے کہ فوراً جماع ترک کر دے اور اگر ایسا نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔

اِستِمنَاء

۱۵۹۷۔ اگر روزہ دار اِستمِنَاء کرے (استمناء کے معنی مسئلہ ۱۵۸۱ بتائے جاچکے ہیں) تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے۔

۱۵۹۸۔ اگر بے اختیاری کی حالت میں کسی کی منی خارج ہوجائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہے۔

۱۵۹۹۔ اگرچہ روزہ دار کو علم ہو کہ اگر دن میں سوئے گا تو اسے احتلام ہو جائے گا یعنی سوتے میں اس کی منی خارج ہوجائے گی تب بھی اس کے لئے سونا جائز ہے خواہ نہ سونے کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف نہ بھی ہو اور اگر اسے احتلام ہو جائے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا۔

۱۶۰۰۔ اگر روزہ دار منی خارج ہوتے وقت نیند سے بیدار ہو جائے تو اس پر یہ واجب نہیں کہ منی کو نکلنے سے روکے۔

۱۶۰۱۔ جس روزہ دار کو احتلام ہوگیا تو وہ پیشاپ کرسکتا ہے خواہ اسے یہ علم ہو کہ پیشاب کرنے سے باقیماندہ منی نالی سے باہر آجائے گی۔

۱۶۰۲۔ جب روزے دار کو احتلام ہو جائے اگر اسے معلوم ہو کہ منی نالی میں رہ گئی ہے اور اگر غسل سے پہلے پیشاب نہیں کرے گا تو غسل کے بعد منی اس کے جسم سے خارج ہوگی تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ غسل سے پہلے پیشاب کرے۔

۱۶۰۳۔جو شخص منی نکالنے کے ارادے سے چھیڑ چھاڑ اور دل لگی کرے تو خواہ منی نہ بھی نکلے احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ روزے کو تمام کرے اور اس کی قضا بھی بجالائے۔

۱۶۰۴۔ اگر روزہ دار منی نکالنے کے ارادے کے بغیر مثال کے طور پر اپنی بیوی سے چھیڑ چھاڑ اور ہنسی مذاق کرے اور اسے اطمینان ہو کہ منی خارج نہیں ہوگی تو اگرچہ اتفاقاً منی خارج ہو جائے اس کا روزہ صحیح ہے۔ البتہ اگر اسے اطمینان نہ ہو تو اس صورت میں جب منی خارج ہوگی تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔

خدا و رسول پر بہتان باندھنا

۱۶۰۵۔ اگر روزہ دار زبان سے یا لکھ کر یا اشارے سے یا کسی اور طریقے سے اللہ تعالی یا رسول اکرم ﷺ یا آپ کے (برحق) جانشینوں میں سے کسی سے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو اگرچہ وہ فوراً کہہ دے کہ میں نے جھوٹ کہاہے یا توبہ کرلے تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور احتیاط مستحب کی بنا پر حضرت فاطمہ زَہرا سَلاَمُ اللہِ عَلَیہَا اور تمام انبیائے مرسلین اور ان کے جانشینوں سے بھی کوئی جھوٹی بات منسوب کرنےکا یہی حکم ہے۔

۱۶۰۶۔ اگر (روزہ دار) کوئی ایسی روایت نقل کرنا چاہے جس کے قطعی ہونے کی دلیل نہ ہو اور اس کے بارے میں اسے یہ علم نہ ہو کہ سچ ہے یا جھوٹ تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ جس شخص سے وہ روایت ہو یا جس کتاب میں لکھی دیکھی ہو اس کا حوالہ دے۔

۱۶۰۷۔ اگر (روزہ دار) کسی چیز کے بارے میں اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ واقعی قول خدایا قول پیغمبر ﷺ ہے اور اسے اللہ تعالی یا پیغمبر اکرم ﷺ سے منسوب کرنے اور بعد میں معلوم ہو کہ یہ نسبت صحیح نہیں تھی تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا۔

۱۶۰۸۔ اگر روزے دار کسی چیز کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ جھوٹ ہے اسے اللہ تعالی اور رسول اکرم ﷺ سے منسوب کرے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ جو کچھ اس نے کہا تھا وہ درست تھا تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ روزے کو تمام کرے اور اس کی قضا بھی بجالائے۔

۱۶۰۹۔  اگر روزے دار کسی ایسے جھوٹ کو جو خود روزے دار نے نہیں بلکہ کسی دوسرے نے گھڑا ہو جان بوجھ کر اللہ تعالی یا رسول اکرم ﷺ یا آپ کے (برحق) جانشینوں سے منسوب کر دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہو جائے لیکن اگر جس نے جھوٹ گھڑا ہو اس کا قول نقل کرے تو کوئی حرج نہیں ۔

۱۶۱۰۔ اگر روزے دار سے سوال کیا جائے کہ کیا رسول محتشم ﷺ نے ایسا فرمایا ہے اور وہ عمداً جہاں جواب نہیں دینا چاہئے وہاں اثبات میں دے اور جہاں اثبات میں دینا چاہئے وہاں عمداً نفی میں دے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے۔

۱۶۱۱۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالی یا رسول کریم ﷺ کا قول درست نقل کرے اور بعد میں کہے کہ میں نے جھوٹ کہاہے یا رات کو کوئی جھوٹی بات ان سے منسوب کرے اور دوسرے دن جب کہ روزہ رکھا ہو ہو کہے کہ جو کچھ میں نے گزشتہ رات کہا تھا وہ درست ہے تو اس کا روزہ باطل ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ روایت کے (صحیح یا غلط ہونے کے) بارے میں بتائے (تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا)۔

Quran Majeed

قرآن کریم بمع ترجمہ و تفسیر سننے پڑھنے اور تلاش کرنے کی سہو لت کےساتھ

ڈاون لوڈ(646MB) Al-Quran V 2.0

ڈاون لوڈ(91.21MB)قران مجید PDF

ڈاون لوڈ(86.90MB)کنزلایمان کیساتھ

ڈاون لوڈAdobe PDF Reader

ڈاون لوڈاوقات نماز سافٹ ویئر